
بچوں کوقرآن مجید پڑھانے کے لیے مولوی حضرات کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں اور اعتماد کیاجاتاہے کہ مذہبی تعلیم کو انسانی ضروریات یالالچ سے بالاتر رکھاجائے لیکن بعض اوقات ایسے ہی افراد سے متعلق نہایت گھٹیاقسم کے انکشاف ہوتے ہیں ، ایسا ہی کچھ 11سالہ لڑکی کیساتھ ہوا جس نے محسوس کیاکہ اس کے استاد کے ارادے اچھے نہیں ، غیرمناسب طریقے سے لڑکی کو چھونے پر موصوف نے موقف اپنایاکہ وہ لڑکی کی تلاوت کی مہارت سے متاثر تھا۔
اماراتی میڈیا کے مطابق یہ جون کا واقعہ ہے جب لڑکی کے43سالہ بھارتی والد کو اس کی دوست کے والدین سے اس سارے معاملے کا علم ہوا۔اُنہوں نے بتایاکہ 22سالہ بنگلہ دیشی کی ڈیڑھ سال قبل اپنی بیٹی اور سات سالہ بیٹے کو قرآن مجید پڑھانے کے لیے خدمات حاصل کیں ، ایک دن میری بیوی اور بچہ کہیں اور مصروف تھے تو اس نے موقع سے فائدہ اٹھا اورلڑکی سے چھیڑ چھاڑشروع کردی اور تین مرتبہ کی کوشش کے باوجود لڑکی راضی نہ ہوئی ، غیراخلاقی حرکات سے پہلے لڑکی اس سے اس قسم کی کسی حرکت کی توقع نہیں کرتی تھی ۔
لڑکی سکول میں اپنی دوست کو بتایاکہ قرآن پڑھانے والا استاد ناراض ہوکر گھر سے چلاگیاکیونکہ اس نے اسے چھیڑچھاڑ کرنے سے روک دیاتھا۔
Post a Comment