اس کام میں بھارتی میڈیا اپنی حکومتوں کے شانہ بشانہ کام کرتا ہے اور وقتاً فوقتاً داؤد ابراہیم کی پاکستان میں موجودگی کے حوالے سے بے بنیاد رپورٹس شائع و نشر کرتا رہتا ہے۔ گزشتہ دنوں نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط اگرچہ واضح کر چکے ہیں پاکستان کے داؤد ابراہیم کو بھارت کے حوالے کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ داؤد ابراہیم پاکستان میں ہے ہی نہیں۔
پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی اس بات کے جواب میں بھارتی میڈیا بھونڈے ثبوت لے کر سامنے آ گیا ہے جنہیں دیکھ اور سن کر کوئی بھی ذی شعور انسان سر پکڑ کر بیٹھ جائے اور بھارتی میڈیا کے سورماؤں کی عقل پر ماتم کرنے لگے۔ بھارتی میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ داؤد ابراہیم اپنی بیوی ماہ جبیں شیخ، بیٹے معین نواز اور بیٹیوں ماہ رخ، مہرین اور مازیہ سمیت پاکستان میں مقیم ہے۔ ثبوت کے طور پر میڈیا نے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے دو ثبوت بھی دیئے۔
ان ثبوتوں میں ایک داؤد ابراہیم کا ’پاکستانی پاسپورٹ‘ ہے جو بقول ان کے 10جولائی 1996ء کو جاری کیا گیا۔
پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی اس بات کے جواب میں بھارتی میڈیا بھونڈے ثبوت لے کر سامنے آ گیا ہے جنہیں دیکھ اور سن کر کوئی بھی ذی شعور انسان سر پکڑ کر بیٹھ جائے اور بھارتی میڈیا کے سورماؤں کی عقل پر ماتم کرنے لگے۔ بھارتی میڈیا نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ داؤد ابراہیم اپنی بیوی ماہ جبیں شیخ، بیٹے معین نواز اور بیٹیوں ماہ رخ، مہرین اور مازیہ سمیت پاکستان میں مقیم ہے۔ ثبوت کے طور پر میڈیا نے بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے حوالے سے دو ثبوت بھی دیئے۔
ان ثبوتوں میں ایک داؤد ابراہیم کا ’پاکستانی پاسپورٹ‘ ہے جو بقول ان کے 10جولائی 1996ء کو جاری کیا گیا۔
دوسرا ثبوت ایک پی ٹی سی ایل نمبر ہے جو داؤد ابراہیم کی اہلیہ ماہ جبیں کے نام پر رجسٹرڈ ہوا۔ اب بھارتی میڈیا میں ذرا سی بھی عقل ہوتی تو وہ سوچتے کہ جو شخص روپوشی کی زندگی بسر کر رہا ہے وہ اپنے یا اپنے کسی فیملی ممبر کے نام پر ٹیلی فون نمبر حاصل کرے گا؟ خفیہ ایجنسیوں کے لیے کالز ریکارڈ کرنا کون سا مشکل کام ہے، داؤد ابراہیم کو کیا پڑی کہ اپنی بیوی کے نام پر فون لگوا کر اپنی ہی جاسوسی کا اہتمام کر لے۔
دوسرے انہوں نے داؤد ابراہیم کے پاکستانی پاسپورٹ کو بطور ثبوت پیش کیا ہے۔ اگر بھارتی خفیہ ایجنسیاں اتنی ہی قابل ہیں کہ انہوں نے داؤد ابراہیم کے پاکستانی پاسپورٹ کی کاپی حاصل کر لی ہے تو وہ اس پاسپورٹ پر داؤد ابراہیم کے بیرون ملک سفر کی تفصیلات سامنے کیوں نہیں لے آتیں کیونکہ پاسپورٹ کی کاپی حاصل کرنے سے اس کے سفر کی تفصیلات حاصل کرنا تو بہرحال کہیں آسان ہے۔
کیا بھارتی میڈیا کو نہیں معلوم کہ پاکستان میں ماہ جبیں نام کی ہزاروں خواتین موجود ہوں گی اور ہزاروں مرد داؤد ابراہیم کے نام کے ہوں گے۔ ان میں سے کسی کے نام پر رجسٹرڈ فون نمبر کا بل اور کسی بھی داؤد ابراہیم کے پاسپورٹ کی نقل دکھا کر یہ دعویٰ کرنا کہ اصل داؤد ابراہیم پاکستان ہے کس قدر احمقانہ حرکت ہے۔ یہ کسی اور پاکستانی کی دستاویزات نہ بھی ہوں تو آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جب لوگ جعلی پاسپورٹس بنوا کر بیرون ممالک سفر کر رہے ہیں کیا بھارتی خفیہ ایجنسیاں ایک پاسپورٹ کی نقل اور ایک ٹیلی فون بل کی کاپی کمپیوٹر پر نہیں بنا سکتیں؟
دنیا کو بے وقوف بنانے والا بھارتی میڈیا شاید یہ نہیں جانتا کہ دنیا کا سب سے بڑا بے وقوف وہ خود ہے۔ اگر داؤد ابراہیم کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہے تو اس نے اس پاسپورٹ پر بیرون ملک سفر بھی کیا ہو گا، اگر اس کی بیوی کے نام پر پی ٹی سی ایل نمبر رجسٹرڈ ہے تو انہوں نے کالز بھی کی ہوں گی۔ اگر بھارتی میڈیا کو ثبوت پیش کرنے کا اتنا ہی شوق چرا رہا ہے تو داؤد ابراہیم کے اس پاسپورٹ پر سفر اس فون نمبر سے کی گئی کالز کی تفصیلات سامنے لائیں
دوسرے انہوں نے داؤد ابراہیم کے پاکستانی پاسپورٹ کو بطور ثبوت پیش کیا ہے۔ اگر بھارتی خفیہ ایجنسیاں اتنی ہی قابل ہیں کہ انہوں نے داؤد ابراہیم کے پاکستانی پاسپورٹ کی کاپی حاصل کر لی ہے تو وہ اس پاسپورٹ پر داؤد ابراہیم کے بیرون ملک سفر کی تفصیلات سامنے کیوں نہیں لے آتیں کیونکہ پاسپورٹ کی کاپی حاصل کرنے سے اس کے سفر کی تفصیلات حاصل کرنا تو بہرحال کہیں آسان ہے۔
کیا بھارتی میڈیا کو نہیں معلوم کہ پاکستان میں ماہ جبیں نام کی ہزاروں خواتین موجود ہوں گی اور ہزاروں مرد داؤد ابراہیم کے نام کے ہوں گے۔ ان میں سے کسی کے نام پر رجسٹرڈ فون نمبر کا بل اور کسی بھی داؤد ابراہیم کے پاسپورٹ کی نقل دکھا کر یہ دعویٰ کرنا کہ اصل داؤد ابراہیم پاکستان ہے کس قدر احمقانہ حرکت ہے۔ یہ کسی اور پاکستانی کی دستاویزات نہ بھی ہوں تو آج کے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں جب لوگ جعلی پاسپورٹس بنوا کر بیرون ممالک سفر کر رہے ہیں کیا بھارتی خفیہ ایجنسیاں ایک پاسپورٹ کی نقل اور ایک ٹیلی فون بل کی کاپی کمپیوٹر پر نہیں بنا سکتیں؟
دنیا کو بے وقوف بنانے والا بھارتی میڈیا شاید یہ نہیں جانتا کہ دنیا کا سب سے بڑا بے وقوف وہ خود ہے۔ اگر داؤد ابراہیم کے پاس پاکستانی پاسپورٹ ہے تو اس نے اس پاسپورٹ پر بیرون ملک سفر بھی کیا ہو گا، اگر اس کی بیوی کے نام پر پی ٹی سی ایل نمبر رجسٹرڈ ہے تو انہوں نے کالز بھی کی ہوں گی۔ اگر بھارتی میڈیا کو ثبوت پیش کرنے کا اتنا ہی شوق چرا رہا ہے تو داؤد ابراہیم کے اس پاسپورٹ پر سفر اس فون نمبر سے کی گئی کالز کی تفصیلات سامنے لائیں
Post a Comment