بھارت میں خواتین کے خلاف لرزہ خیز جرائم کی داستان میں گزشتہ روز اس وقت ایک اور شرمناک باب کا اضافہ ہوگیا جب ریاست تلنگانہ میں درندہ صفت دیہاتیوںنے ایک 20 سالہ حاملہ لڑکی پر ظلم کی انتہا کردی۔
اخبار ”ٹائمز آف انڈیا“ کے مطابق ظلم کا نشانہ بننے والی انیتا نامی لڑکی بنوت روی نامی ایک کسان کی دوسری بیوی ہے ۔ روی کی پہلی بیوی سواروپ کا اپنے خاوند کے ساتھ جھگڑا چل رہا تھا اور دونوں کے خاندانوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جاتی تھی۔ سواروپ کا مﺅقف تھا کہ اس کے خاوند نے چوری چھپے دوسری شادی کر لی تھی اور اپنے پہلے سے موجود بچوں کی ذمہ داریاں ادا نہیں کررہا تھا۔ اس جھگڑے کے تصفیے کے لئے ایک پنچایت بلائی گئی تھی، جس میں روی کی دوسری بیوی انیتا بھی موجود تھی۔ پنچایت کے دوران ہی روی اور اس کی پہلی بیوی کے خاندان والوں کے درمیان جھگڑا شروع ہوگیا، جس پر انیتا نے اپنے خاوند کی مدد کی کوشش کی۔ سواروپ کے گھر والوں نے دونوں پر حملہ کردیا، لیکن اس موقع پر بدبخت خاوند اپنی دوسری بیوی کو پہلی بیوی اور اس کے خاندان کے رحم و کرم پر چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔دوسری جانب سواروپ کے خاندان والوں نے بھی بے شرمی کی انتہا کردی اور نوجوان حاملہ لڑکی کو ناصرف شدید زدو کوب کیا بلکہ اسے برہنہ کر کے سارے گاﺅں کے سامنے گلیوں میں گھماتے رہے۔ ان لوگوں نے حیوانیت کی انتہا کر دی اور جلتی ہوئی لکڑی سے لڑکی کے نازک اعضاءپر وار کرتے رہے۔ وردھان پت پولیس کے افسر سنتوش کا کہنا تھا کہ جب انہیں اس واقعے کی اطلاع ملی تو وہ لڑکی کی مدد کے لئے فوری طور پر پہنچے۔ پولیس نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بننے والی انیتا کو ہسپتال تو پہنچادیا، لیکن اس پر ظلم کرنے والوں کا کچھ بھی نہ کر سکی۔ وحشی ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، اوران کی تلاش تا حال جاری ہے۔
Post a Comment