0
پرانی فلموں میںایسے مناظر بکثرت ملتے ہیں جن میں ایک شخص اپنی یادداشت کھو بیٹھتا ہے اور سالوں بعد اس کی یادداشت لوٹ آتی ہے اور وہ اپنے خاندان سے جا ملتا ہے، اس طرح فلم ایک خوشگوار انجام سے دوچار ہوتی ہے۔ کینیڈا میں حقیقت میں یہ منظر روپذیر ہو گیا ہے جہاں ایک شخص 30سال قبل اپنی یادداشت کھو بیٹھا اور گم ہو گیا۔ اتنے سالوں بعد اس کی یادداشت واپس آ گئی ہے اور اب پولیس اسے اس کے خاندان سے ملوانے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس شخص کا نام ایگر لیٹولپ ہے۔ ایگر اس وقت 21سال کا تھا جب وہ اونٹیریو شہر میں لاپتہ ہو گیا۔ایک حادثے کے نتیجے میں اس کی یادداشت چلی گئی اور وہ بھول گیا کہ وہ کون ہے اور کہاں کا رہنے والا ہے۔اس سارے عرصے میں پولیس اسے ڈھونڈتی رہی۔ لیکن وہ اپنے گھر سے 130کلومیٹر کے فاصلے پر ایک نئی شناخت کے ساتھ زندگی گزارتا رہا۔ سی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں اچانک اس کی یادداشت واپس آ گئی۔ اس نے ایک سوشل ورکر کو بتایا کہ اسے یاد آ گیا ہے کہ وہ کون ہے اور کہاں کا رہنے والا ہے۔ سوشل ورکر نے پولیس کو آگاہ کیا جو پہلے ہی شہر شہر اس کی تلاش میں تھی۔ پولیس نے اس کا ڈی این اے ٹیسٹ کروایا جس سے تصدیق ہو گئی کہ وہ واقعی تیس سال قبل گم ہونے والا ایگر ہی ہے۔ اب پولیس اسے اس کے خاندان کے پاس لیجانے کی تیاری کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایگر کے اہلخانہ بھی خوشی سے نہال ہو رہے ہیں اور اس کی آمد پر پروقارتقریب منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کر دہے ہیں۔ ایگر لیٹولپ کی والدہ سیلویا ولسن کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کی واپسی کی خبر پا کر بہت خوش ہیں۔ خاندان کے افراد نے فون پر ایگر سے بات بھی کی ہے

Post a Comment

 
Top